آنکھ بھر آسمان

یاور ماجد ۔ Yawar Maajed

آنکھ بھر آسمان

ندی بہتی ہے تو اتنے مدھر گیت کیوں گاتی ہے؟ بہاریں پژمردہ زمین کو زندگی بانٹتے ہوئے سرخیاں کیوں پرونے لگ جاتی ہیں؟ برگد کے درخت بادِ صبا کے بوسے پاتے ہی لہلہانے کیوں لگتے ہیں؟ دریا ؤں کو ایسی کیا دھن پڑی ہے کہ اتنی تیزی کے ساتھ سمندر کی طرف بھاگتے  ہوئے اتنے خوبصورت ترانے گاتے چلے جاتے ہیں؟ زندگی کی خاموشیاں بڑھ جائیں تو چلتی ہوا نوحے  کیوں سنانے لگ پڑتی ہے؟  بادل برستے ہیں تو دھرتی کے سینے سے میٹھی میٹھی خوشبو کیوں نکلنے لگتی ہے، سورج صبح کے وقت جلوہ دینے سے پہلے اور شام کے الوداعی لمحات کے بعد آسمان میں اتنے خوبصورت رنگ کیوں بھر ڈالتا ہے، بادل سورج کی کرنوں سے کیوں کھیلتے ہیں؟  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔   میں جب بھی اداس ہوتا ہوں تو قلم کیوں اٹھا لیتا ہوں؟

 سورج کی روشنی بارش کے کروڑوں قطروں پر پڑتی ہے  اور  وہ اس کو منعکس کر ڈالتے ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک ہی قطرہ  ایسا ہوتا ہے جو روشنی کے باطن سے پیارے پیارے رنگوں کو خوبصورتی سے قوسِ قزح کی شکل دے دیتا ہے، شاید میں اپنے آپ کو وہی قطرہ سمجھتا ہوں جو گزرتے  لمحات کو، اور اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات کو اس نظر سے دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا جیسی دوسرے  سب رکھتے ہیں، جب تک میں روشنی کی کرن کو چیر کر نہ رکھ دوں، مجھے اپنے اندر کچھ کمی کا سا احساس رہتا ہے۔  لفظوں کی حیثیت میرے لئے وہی ہے جو  پانی کی ندی کے لئے ہے، سرخیوں کی بہاروں کے لئے، بادِ صبا کے بوسوں کی برگد کے لئے، گونجتے نوحوں کی زندگی کی خاموشیوں کے لئے، زمین کی بھینی بھینی خوشبو کی بارش کے لئے اور افق اور شفق کے رنگوں کی ابھرتے اور ڈوبتے سورج کے لئے ۔

 احساس  کی شدت کی ڈوریوں سے بنا ہوا لباس میری خلعت  ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔  میں اپنے آپ کو قدرت کے ودیعت کردہ ترنم کا امانتدار سمجھتا ہوں اور زمانے کو وہی کچھ لوٹانے کی سعی میں مصروف ہوں جو صبح کے وقت پرندے  اپنے نغموں سے لوٹاتے ہیں۔ ایک رنگ ہے، ایک ترنگ ہے، ایک توازن ہے جو اس زندگی کے حسن اور بدصورتی نےصدیوں سے بہرطور قائم کر رکھا ہے، میں اپنے آپ کو اسی توازن کے تسلسل کا ایک انتہائی معمولی سانقش سمجھتا ہوں۔

مجھے علم نہیں کہ میری زندگی کی متاعِ کُل  پڑھتے ہوئے آپ پر کیا  بیتے گی، ان سادہ لفظوں کے پیچھے کہیں انتہا کی محبت  کانپتی ملے گی  تو کہیں نفرتوں میں ڈوبی ہوئی ٹوٹتی سانسیں ، کہیں اپنی کم مائیگی کا ماتم کرتا ہوا وجدان، تو کہیں اپنی اونچی اڑانوں پر فخر کرتا ہوا ایک پرندہ، کہیں اپنے بڑھاپے کے نوحے سناتا ہوا ایک چھوٹا سا لڑکا ،  تو کہیں  بچوں سی معصوم  خواہشوں کا اظہار کرتا ہوا ایک بوڑھا، کہیں نہ ختم ہوتے ہوئے دائروں کی رسی پر توازن سے چلتا ہوا ایک بازیگر۔  تو کہیں گرتا سنبھلتا ایک شعلہ جو کسی بھی لمحے بجھنے کے ڈر سے کبھی زمین کو سجدہ کرتا ہے تو کبھی فلک کی طرف گلے بھری نگاہوں سے دیکھتا ہے۔

کہیں کسی ناکردہ جرم کی سزا بھگتتا ہوا ایک قیدی، تو کہیں ایک آزاد ہرن جو زندگی کی خوبصورت وادیوں میں چوکڑیاں بھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کہیں خود سوزی کے نشے میں ڈوبا ہوا ایک نیم جان جسم۔ کہیں فطرت کو اپنی محبوبہ سمجھ کر اس سے عشق لڑانے والا ایک پاگل دیوانہ تو کہیں  آنسوؤں سے بھری آنکھیں لئے ہوئے منظروں کی دھندلاہٹ کا شکوہ کرنے والا ایک  شخص۔

اگر میری نظمیں اور غزلیں پڑھتے ہوئے  آپ کو اپنی لگیں تو  اس کو میں اپنی کامیابی سمجھوں گا۔

مجھے شاعری کرتے پچیس برس ہونے کو آئے، آج تک اپنی کتاب چھپوانے کا خیال دل میں نہیں آ سکا۔ سوچا تھا کہ زمانہ بدل چکا ہے، انٹرنیٹ کی دنیا ہے، لوگ میری طرح اپنے کمپیوٹر یا اپنی موبائل ڈیوائسز پر ہی سب کچھ پڑھتے ہیں، ’’آنکھ بھر آسمان‘‘ کا نام میں نے اپنے مجموعے کے لئے آج سے کوئی بیس برس پہلے ہی سوچ لیا تھا، اور جب میں نے ۱۹۹۹ میں اپنی سائٹ کی بنیاد رکھی تو اسی کا نام  ’’آنکھ بھر آسمان‘‘ رکھ ڈالا۔ یہ خیال نہ آیا کہ کوئی اور اس کو چرا لے گا۔ پاکستانی ٹی وی دیکھنا تو میں نے اسی وقت سے ترک کر دیا تھا جب پاکستان چھوڑا، دو ہفتے قبل انگلینڈ میں مقیم میری دوست گلناز کوثر سے بات کرتے پتا چلا کہ پاکستان ٹی وی نے اسی نام سے کوئی ایک ڈیڑھ برس سے ایک ڈرامہ چلا رکھا ہے جس کو پاکستان ٹی وی کے پرانے اور منجھے ہوئے اداکار عابد علی نے پروڈیوس اور ڈائریکٹ کیا ہے۔ گو یہ چوری تین لفظوں کی ہی چوری ہے لیکن چوری تو چوری ہوتی ہے۔ مجھے شبہ ہے کہ عابد علی کو اس چوری کا علم نہیں ہو گا، ان کی ٹیم کے کسی آدمی نے میری سائٹ دیکھنے کے بعد یہ نام سامنے لا رکھا ہو گا اور انہوں نے شاید بلا تحقیق اپنے ڈرامے کا نام رکھ لیا، یا ہو سکتا ہے یہ بات ان کے علم میں رہی ہو، چاہے جو بھی صورت رہی ہو، میں ان جیسے سینیئر فنکار سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس غلطی کا ازالہ کریں گے، میرا کریڈٹ مجھ کو دیں گے اور اس بات کو تسلیم کریں گے کہ یہ نام ان کا یا ان کی ٹیم کی تخلیق نہیں بلکہ میری تخلیق ہے۔گو یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر وہ یہ بات تسلیم نہ بھی کریں تو بھی ایک شاعر ان کا کیا بگاڑ لے گا۔

آج اس سائٹ کو اسی نام سے انٹرنیٹ پر رہتے ہوئے کوئی چودہ برس ہونے کو آئے، اس سائٹ کا پہلا ورژن میں نے ۱۹۹۹ میں بنایا اور پاکستان کے انٹرنیٹ سروس پرووائڈر کامسیٹس پر ہوسٹ کیا، پھر یہ سائٹ جیو سٹیزاور پھر ونڈوز لائیو سائٹس پر رہی اور بالآخر ورڈ پریس تک آن پہنچی۔ میں اس بات کو کوئی اعزاز نہیں سمجھتا اور نہ کبھی اس کی تشہیر کی لیکن حقیقت  یہی ہے کہ انٹرنیٹ کی دنیا میں اردو شاعری کی سب سے پہلی سائٹ ’’آنکھ بھر آسمان‘‘ ہی تھی۔

یاور ماجد

۲۸ دسمبر ۲۰۱۳

Aankh Bhar Asman – Eyeful Sky

Why does a stream of water sing such beautiful tunes when it flows, why does spring artistically start etching red when it bestows life to almost dead grounds? why does a banyan tree start to rave when the morning wind kisses its cheeks, why do rivers run so fast to the seas, why does breeze start to play tunes when the quiet of life seems to take over? why do the grounds start smelling so good when it starts raining? why does the sun fill the skies with such beautiful colors before it appears on the horizon and after it sets? why do clouds play with rays of sunshine? why do I pick up my pen and start writing whenever I feel sad?

Rays of sun hit millions of droplets of rain and they simply reflect them; it is only one in a million drops that extracts out beautiful colors from within a ray of light and spreads them on the sky; perhaps I have the illusion of being that drop of rain that fails to reflect the passing moments like those millions of drops of rain, who is incapable of looking at the circumstances the way others do; I feel incomplete from inside until I take that ray of light, take all of its colors out and paint them with my words.

My dress of honor is woven with all the intensity of sensitive thoughts, I consider myself to be the bearer of rhythm bestowed upon me by the nature and I try my best to return it to the world, the same thing that birds return with their songs at the time of sunrise. The beauties and unfairness of life have been maintaining a color, a tune and a balance, I take myself to be a tiny little expression of the same.

I don’t know how would you take my poetry, behind these simple words, at times you will find palpitating love and at times, you might find heavy and broken breaths dipped into the elixir of hate; at times mourns of limitations coming from "the knowing” inside and at times a proud bird flying high in the skies; at times you might find a little boy singing sad tunes about his old age and at times you might find an old shaky man making innocent and naive wishes, somewhere you might find a juggler walking skillfully on an unending rope in a circular path and somewhere you might come across a dying and scared little flame that bows to the ground or looks up the sky with utter complaints.

In some verses you might find a prisoner, doing time for a crime he never committed and in some you might see a free deer unendingly prancing in the beautiful valleys of life. Somewhere you might see a lifeless body, drowned in the intoxication of self-torture and at another place you might see a crazy guy trying to express his love for his beloved; the nature. Somewhere you might even find a guy with eyes full of tears complaining about the his blurred vision.

When reading my poetry, if you get the feeling that it is the voice of your heart too, I would take that to be an accomplishment on my end.

I have been writing for over 25 years now, I could never really convince myself to get my poetry published in the form of a book, in this age and day, I always believed that internet is the way to go, as long as you have your presence on the net, you are there. I had decided on the name of my book as "Aankh Bhar Asman” (Eyeful Sky) آنکھ بھر آسمان  some 20 years ago when I was not even introduced to magic we call the internet, and when I created my first site on the internet, I gave it the same name. I could not even imagine that someone will steal this name and call it their own, a couple weeks ago, I was talking to my friend Gulnaz Kausar on phone when she told me that there has been a TV show from Pakistan Television running for over a year now, produced and directed by the veteran Pakistani actor Abid Ali. Even though this is theft of three simple words, in my books it still is a theft. I suspect that a legendary actor such as Abid Ali would do something like this knowingly, it might very well be that one of his team members might have stolen it from my site and suggested him the name and he might have agreed without verifying the originality of it, or maybe he knew it very well and still went ahead with it without giving credit to me. Nevertheless, I expect that he will rectify this mistake and give me proper credit and admit that the name was taken from my site, although even if he does not admit it, what harm could a poet possibly do to him or his fame?

This site has been on the internet for about 14 years now, I created the first version of this site back in 1999 and hosted it on my personal site at comsats in Pakistan, later on it moved to GeoCities, then Windows Live Spaces and now it lives in WordPress. I don’t consider this to be an honor or anything and never bragged about it but it remains to be  fact that "Aankh Bhar Asman” was the very first Urdu Poetry site on the internet.

Dec 28, 2013

اُفق بھی رات کی آمد کے خوف سے یاوؔر پٹخ رہا ہے زمیِں پر جبیں، مری ہی طرح

اُفق بھی رات کی آمد کے خوف سے یاوؔر
پٹخ رہا ہے زمیِں پر جبیں، مری ہی طرح

کیا احمریں سی شام تھی اپنے وداع کی لگنے لگے تھے سارے ہی منظر لہو لہو

کیا احمریں سی شام تھی اپنے وداع کی
لگنے لگے تھے سارے ہی منظر لہو لہو

شب بھر جو تیرگی سے لڑا تھا پسِ فلک آیا افق پہ لوٹ کے ہو کر لہو لہو

شب بھر جو تیرگی سے لڑا تھا پسِ فلک
آیا افق پہ لوٹ کے ہو کر لہو لہو

ان برف باریوں میں ہواؤں کی سائیں سائیں دِل کے فلک پہ جمتا پگھلتا ہوا سکُوت

ان برف باریوں میں ہواؤں کی سائیں سائیں
دِل کے فلک پہ جمتا پگھلتا ہوا سکُوت

آؤ ناں پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو بارش کی کوئی شب ہو مہینہ اگست ہو

آؤ ناں پھر سے یاد کی گلیوں کی سیر کو
بارش کی کوئی شب ہو مہینہ اگست ہو

Advertisements
تبصرے
  1. احمد صفی نے کہا:

    ڈئیر یاور

    آنکھ بھر آسمان کی دوبارہ رونمائی مبارک ہو۔۔۔
    اللہ کرے زور ِ قلم اور زیادہ

    مخلص

    احمد صفی

  2. محمد وارث نے کہا:

    بہت خوشی ہوئی یاور صاحب آپ کا بلاگ دیکھ کر۔ اردو بلاگز کا ایک ایگریگیٹر ہے "اردو سیارہ”

    http://www.urduweb.org/planet/

    آپ اس میں ضرور شمولیت حاصل کریں، اسطرح آپ کی نئی تحاریر قارئین تک پہنچتی رہیں گی

    http://www.urduweb.org/planet/blog-submit.html

    والسلام

  3. deeredpost نے کہا:

    please change theam and a simpler one so that people can easily read your verses..!

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s