کیا ہوا جو مہ و اختر کے برابر نہ اڑا

Posted: 2009/08/25 by admin in اردو شاعری, غزل

۲۵ اگست ۲۰۰۹

کیا ہوا جو مہ و اختر کے برابر نہ اڑا

وقت کی آندھی مجھے دُھول سمجھ کر نہ اڑا

کیسے اُڑ پاؤں گا آئندہ کے طوفانوں میں

میں تو ماضی کے قفس سے کبھی باہر نہ اُڑا

چھوڑ دے کچھ تو بہاروں کی نشانی مجھ میں

اے خزاں رنگ مرے جسم کا یکسر نہ اڑا

یہ برستی ہوئی بوندیں تو گھٹا کی دیکھو

کون کہتا ہے گگن میں کبھی ساگر نہ اُڑا

کس نے اُڑتے ہوئے ساگر کو فلک پر دیکھا

ایسی بے پر کی مری جاں، مرے یاوؔر نہ اُڑا

یاور ماجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s